مرکزی صدر کا پیغام


اسلام علیکم ورحمتہ اللہ
اللہ تبارک و تعالی نےاس دنیا میں امت کی اصلاح کے لیئے ایک لاکھ چوبیس ھزار انبیائے کرام بیجھے کہ امت کی اصلاح کریں اور دین کی راھ دیکھائیں، اس طرح خاتم النبین صہ نے انسان کو کمال تک پنھچایا اور دین کی راھ دیکھائی اس میں بہت سے تکالیف برداشت کیئے مگر اصلاح کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد شمع امامت کو روشن کیا گیا اور 12 اماموں کی توصل سے عزت اور ھدایت کا سفر جاری ہے، امام مھدی عج کی غیبت میں مجتھدین کے زمہ داری ہوئی کہ وہ امت کو اتحاد و وحدت سے ھدایت کا راستے میں گامزن کرتے رہیں ، الحمداللہ یہ سفر جاری و ساری ہے مگر ایک ایسی نعمت قرآن مجید میں بھی ھدایت کے طور پہ بتائی گئی ہے جس سے ہم ایک نظرئے کے تحت چلتے ہوئے ھدایت کا کام سر انجام دے سکتے ہیں،
اور تم میں سے ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہیے جو نیکی کی طرف بلاتی ہو اور برے کاموں سے روکتی ہو اور فلاح پانے والے ایسے ہی لوگ ہیں‘‘آل عمران04"
اسی آیت کے مدنظر ملت کے صالح، باشعور افراد پہ مشتمل ایک گروھ نے  1967میں وادی مھران سندھ میں "اصغریہ" کے نام سے تنظیم بنائی اور اسے کے ذریعے افراد کی کردار سازی کا کام کیا معاشرے میں ایک جدت لائی گئی اور اصلاح کا کام شروع کیا گیا، ایک دور تھا جب کہا جاتا تھا کہ تشیع بس ماتم عزاداری اور ایک موالی قوم ہے جو بارگاہوں میں بس علی  علی کر کے بیٹھی ہوئی ہے، 1984 ع میں جب اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان کے مرکزی صدر قبلہ انجنئیر سیدحسین موسوی بنے تو انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے تنظیم میں ایک روح پھونکی جس میں تنظیم کو ایک اچھی رہنمائی موصول ہوئی آپ نے علمائے کرام اور دانشور حضرات پہ مشتمل سرپرست کاونسل کا اسٹیکچر تشکیل دیا اور اس میں حجتہ السلام علامہ حیدر علی جوادی سمیت دیگر بزرگان کو شامل کیا اور اس طرح علمائے کرام کے ذریعے معاشرے کے اصلاح کے بیحد مفید پروگرامات بنائے اور تنظیم کو کامیابی کی راستے پہ گامزن کیا، انقلاب اسلامی ایران کے بعد اس تنظیم میں بہت سے تیزی آئی اور انقلاب سے متاثر ہوکر پاکستان میں بھی ایک انقلابی تحریک کے مانند معاشرے میں کردار سازی اور نئے مفید پروگرامات کو ترویج دی گئی، اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن نے اس باتوں کا مقابلہ کیا اور شیعت میں امام خمینی رح کے فکر منتقل کرنے میں دن رات محنت ی نتیجہ یہ نکلا کے مختصر عرصہ میں اصغریہ سندھ کے دور داراز اور کونے کونے تک پنھچ گئی اور مکتب تشیع کے ماننے والوں کی کردار سازی کی اور ایک باکردار قوم اور نظریاتی فکری نوجوان بنائے، جو کہ آج بہت اداروں میں علمی فکری کام کر رہے ہیں،  آج الحمداللہ تنظیم کو نصف صدی ہوچکی ہے اور یہ تنظیم ایک درخت کے مثل بن گئی ہے جس سے ملنے والے ثمرات معاشرے کی اصلاح کرنے میں مصروف ہے، تنظیم آج یونیورسٹی کا کردار ادا کر رہی ہے جس میں نوجوان آتے ہیں اور اپنا کردار بنا کر معاشرے میں ولایت فقیہ کے نظام کے لیئے جدوجہد کر رہے ہیں، تنظیم میں بہت سے طوفان کے مانند مسائل آئے مگر ایک بھتر پالیسیوں کی وجہ سے تنظیم اپنی فکری کاموں کا سفر جاری و ساری رکھتی آرہی ہے، ہمیں امید ہے کہ یہ تنظیم امام عج کے جانثار بنانے والی قرار پائے گی اور معاشرے کی اصلاح کا کام کرتی رہے گی۔

والسلام
محسن علی اصغری
مرکزی صدر
اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان