راہیان کربلا و عاشقان مھدی کنونشن بھٹ شاھ میں شب شھداء


02/17/2018

بھٹ شاھ: اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا ۴۷ واں سالانہ مرکزی راہیان کربلا و عاشقان مھدی کنونش بھٹ شاھ میں شھداء کی یاد میں شب شھداء کی نشست کی گئی نشست کا آغاز تلاوت کلام الٰہی سے کیا گیا تلا وت کا شرف برادر سجاد علی نے حاصل کیا، برادر فھد نے منقبت پیش کی بعد ازاں برادر شکیل حسینی نے شب شھدا کے متعلق شرکا کو آگاہی دی اپنے خطاب میں کہا کہ ـشہادت ایک عظیم اور بلند و بالا مرتبہ ہے کہ جس کو ہماری عقل درک کرنے سے قاصر ہےـ اور شھدا ءکی مناسبت سے ڈاکومینٹری دکہائی گئی شب شھدا میں خطابت کا سلسلہ شروع کیا

مولانا سید عروج زیدی نے شھب شھدا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب اسلامی بسیجیوں کی وجہ سے  باقی ہے، حضرت محمد صہ اے علی اس وقت تم کس طرح شھادت پر صبر کرو گے تو امام علی نے کہا شھادت صبر نہیں شکر کا مقام ہے، شھید کا مقام گولی کی وجہ سے نھیں مگر اس راہ کی وجہ سے ملا ہے، ان کا مقام راستہ کی وجہ سے ہے۔ شھادت کے دو درجے ہیں حادثاتی شھید اور جنھوں نے خود شھادت کو چنا۔ امام حسین کے نام پر خود آ کر قربانی پیش کی۔ شھداے کربلا کا مقام اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے خو د شھادت کو چنا

شھب شھدا سے استاد محترم سید حسین موسوی نے خطاب کیا  اصغریہ کے شھدا کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے ہمیشہ شہید منتظر مھدی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکہی وہ کبہی پریشان دکہائی نہیں دیئے

آخر میں مولانا غلام شبیر نے خطاب کیا انہو نے کہا مظلوم کے آنسو میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔شہید کی روہ خد خدا قبض کرتا ہے، شہید کے خون کو بارگاھ  خدا میں رسول لیکر جاتا ہےفرشتہ یا ملائک نہیں، شہید خدا سے رزق پاتا ہے یعنی کمال تک پہنچنے کے لیےدنیاوی زندگی مانع نہیں ہوتی۔