مرکزی راہیان کربلا و عاشقان مھدی کنونشن بھٹ شاھ میں تیسرے روز سے جاری


02/17/2018

اصغریہ اسٹو ڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا ۴۷ واں سالانہ  مرکزی  راہیان کربلا و عاشقان مھدی کنونشن بھٹ شاھ میں تیسرے روز سے جاری آج کی نشست کا آغاز تلاوت کلام الٰہی سےکیا گیا برادر صابر حسین شر نے تلاوت کا شرف حاصل کیا، حمد اور نعت برادر  زین عباس اور برادر منصور علی نے پیش کیئے اسکے بعد  اعلیٰ تعلیمی ادارہ  قائد عوام یونیورسٹی مھران یونیورسٹی اور سندھ یونیورسٹی نے سال کربلا محور انسانیت   کی کارکردگی رپورٹس  پیش کی کنونشن میں مولانا نبی بخش دانش کا  درس ہوا مولانا نے اپنے درس میں کہا کہ تحرک حیات کی نشانی ہے وہ معاشرہ جسمیں تحرک نہ ہو وہ مردہ ہے،بدقسمتی سے عرصہ دراز سے مبلغ دین جمود کا شکار ہے مگر ہمیں عملن تبلیغ کا کام انجام دینا ہے اور استحکامت کے ساتھ ڈٹ کے رہنا ہے،مبلغ  کےدل سے نکلنے والی بات لوگوں کی دل تک ضرور پہنچتی ہے، انجمن اور نوحہ خوانوں کو شاعری معیاری پڑھنے چاہیئے،جس سے فکر حسینی کی ترویج ہو،جس معاشرے میں امر با المعروف و نہی عن المنکر ختم ہوجائےتو لوگ جیسے پولیو کے بیمار ہوجائیں اور دین داری ختم ہوجائے گی اور انسانیت کا تقدس ختم ہوجائیگا ایسی بیماریوں سے دور رہنا چاہیئے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا چاہیئے۔

کنونشن کی اسی نشست  مہں حجت الاسلام علامہ اصغر شہیدی کاکربلائی اور منتظری اخلاق کے عنوان پر درس اور سوالات جوابات ہوئے آغا اصغر شہیدی نے اپنے درس میں کہا کہ جب آپ نے نظام ولایت کو قبول کیا تو پھر آپ کے کردار، گفتار اور اخلاق بہتر ہونا لازمی ہے،کربلائی اور منتظر امام رہنا ایک سعادت اور عہدہ ہے جس میں زمہ داریاں ہیں جس کو ادا کرنی پڑتی ہیں،معیارات کا تعین کرنا ہے تو قرآن و اھلبیت کے معیار افضل ترین ہے ھماری فکر فکر قرآنی و اھلبیت بن گئی تو کردار و گفتار کربلائی و منتظری بن جائیں گے ،آپ اپنے اندر بھی نعرہ لگائیں، اپنے نفس کو قابو کریں اور اس کو فتح کریں وہاں پر نعرہ لگائیں اپنے نفس کو اللہ سے کمتر چیز پر نہ بیچیں، ہمارے کام سے پروردگار خوش ہوگا تو کامیابی ہے، معیار اللہ کی خوشنودی ہےنظیمی بنیں تنظیم پرست نہ بنیں ہم کتنے فیصد کامیاب ہیں، اپنا محاسبہ کریں،جوانی میں نیکی کی بنیاد ڈالی تو عمارت مضبوط ہوگی،حسینی نہ ظالم اور نہ ظلم کیساتھ ہوتا ہے،انسان کا توکل دنیاوی طاقت پر نہیں مگر اللہ پاک کی ذات پر ہوتا ہے۔